منگل 21 جولائی 2026 - 15:34
دین کی مؤثر تبلیغ صرف علم سے نہیں بلکہ عمل اور کردار سے ہوتی ہے

حوزہ / آیت اللہ محمد مہدی شب زندہ دار نے جامعۃ الزہراء (س) کے مدیر حجت الاسلام و المسلمین علی زاده اور معاونین سے ملاقات کے دوران کہا: حوزات علمیہ کی بنیادی رسالت انسان سازی ہے اور اس عظیم ہدف کے حصول کے لیے عمیق دینی فہم (تفقہ) کا ہونا ناگزیر ہے کیونکہ انذار اور تبلیغ کی بنیاد بھی تفقہ پر قائم ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کی سپریم کونسل کے سیکریٹری آیت اللہ محمد مہدی شب زندہ نے اس ملاقات میں گفتگو کے دوران حوزات علمیہ کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: قرآن کریم کے مطابق حوزات علمیہ کا اصل فریضہ ایسے افراد کی تربیت کرنا ہے جو دین کی صحیح معرفت حاصل کریں اور پھر معاشرے کی ہدایت و رہنمائی کا فریضہ انجام دیں۔

انہوں نے کہا: قرآن مجید کی آیت "فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ" اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ انذار، تبلیغ اور معاشرے کی دینی رہنمائی اسی وقت مؤثر ہو سکتی ہے جب مبلغ خود دین میں گہرا تفقہ اور سمجھ بوجھ رکھتا ہو۔

آیت اللہ شب زندہ دار نے کہا: حوزات علمیہ خصوصاً خواتین کے دینی مراکز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی باصلاحیت اور باکردار شخصیات کی تربیت کریں جو علمی، اخلاقی اور معنوی اعتبار سے معاشرے کے لیے نمونہ بن سکیں اور اسلامی تعلیمات کو صحیح انداز میں عوام تک پہنچائیں۔

دین کی مؤثر تبلیغ صرف علم سے نہیں بلکہ عمل اور کردار سے ہوتی ہے

انہوں نے مزید کہا: دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت، اخلاص، تقویٰ اور عملی کردار بھی طالب علم کی شخصیت سازی کے بنیادی عناصر ہیں کیونکہ معاشرے میں دین کی مؤثر تبلیغ صرف علم سے نہیں بلکہ عمل اور کردار سے بھی ہوتی ہے۔

انہوں نے حوزاتِ علمیہ کے مدیران اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طالبات کی علمی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں تاکہ مستقبل میں وہ اسلامی معارف کی مؤثر مبلغات اور معاشرے کی دینی رہنما بن سکیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha